۱۳۸۸ اسفند ۱۶, یکشنبه

تظاهرات مردم بلوچ کراچی در حمایت از رهبر انقلابی بلوچستان ، امیر عبدالمالک بلوچ


بی بی سی اردو
عبدالمالک ریگی کی رہائی کے لیے مظاہرہ

شہر کراچی میں شدت پسند تنظیم جنداللہ کے رہنما عبدالمالک ریگی کی رہائی کے لیے بلوچ قومپرست کارکنوں نے احتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔
ریگی کو ایرانی حکومت نے فروری کے آخری ہفتے میں گرفتار کیا ہے۔
ریگی کو ایرانی حکومت نے فروری کے آخری ہفتے میں گرفتار کیا ہے۔ ان کے خلاف ایران میں شدت پسند کاروایاں کرنے کا الزام ہے۔بلوچ رائٹس جماعت کا کہنا ہے کہ عبدالمالک ریگی ایران میں بلوچ عوامی مزاحمتی تنظیم کے سربراہ ہیں اور بلوچوں کے حقوق کے لیے جدوجہد کر رہے ہیں۔
عبدالمالک ریگی کی رہائی کے لیے بلوچ رائٹس کونسل کے کارکنان نے کراچی پریس کلب کے سامنےاحتجاجی مظاہرہ کیا ہے۔مظاہرین نے اپنے ہاتھوں میں عبدالمالک ریگی کی تصویر اور مختلف بینرز اٹھا رکھے تھے۔بلوچ قومپرست کارکنان نے ایران کے خلاف اور ریگی کے حق میں نعرے لگائے۔
مظاہرین نے خضدار یونیورسٹی میں طلبہ پر حالیہ بم حملوں کی مذمت بھی کی ہے۔
شدت پسند سنی تنظیم جنداللہ کے سربراہ عبدالمالک ریگی تیئیس فروری کو ایران میں گرفتار ہوئے تھے۔ایرانی حکومت کے مطابق انہیں کرغستان سے دبئی جانے والے طیارے میں سے گرفتار کیا گیا ہے۔ریگی کے خلاف ایرانی سیکورٹی فورسز پر حملوں کے الزام ہیں۔جبکہ کراچی میں بلوچ رائیٹس کونسل کے رہنما اسحاق آزاد بلوچ کا کہنا ہے کہ ریگی مذہبی شدت پسند نہیں بلوچ علحدگی پسند ہیں۔
اسحاق بلوچ آزاد کے مطابق وہ اپنی آزادی اور آزاد گریٹر بلوچستان کی بات کر رہے ہیں۔ ان کے مطابق ایران ہو، پاکستان ہو یا افغانستان وہ ان میں اپنا پوار ملک چاہتے ہیں اور ریگی کو وہ بلوچوں کا سربراہ سمجھتے ہیں۔
بلوچ رائٹس کونسل کے مظاہرے میں ایرانی پرچم نذر آتش کیا گیا۔جبکہ بلوچ کارکنان نے مطالبہ کیا ہے کہ ایران اور پاکستان میں بلوچوں کی نسل کشی بند کی جائے اور تمام لاپتہ بلوچوں کو بازیاب کیا جائے۔

هیچ نظری موجود نیست: